عفاف اظہر صاحبہ ایک قابل احترام لکھاری ہیں جو بلا امتیاز مزہب و نسل ہر مظلوم فرد اور طبقے کے حق میں لکھتی ہیں۔ رمشا مسیح کیس ہو، ملالہ کے لیے موقف ہو یا ایدھی صاحب کے بارے میں لکھیں ان کی تحریریں جاندار ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ محترمہ مزہبی و غیر مزہبی حلقے میں یکساں شہرت رکھتی ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے جماعتِ احمدیہ پر لکھی گئی ان کی تحریریں نظر سے گزریں۔ موصوفہ امامِ جماعت اور نظامِ جماعت پر شدید الفاظ میں تنقید کرتی دکھائی دیں جس کا ان کو مکمل حق حاصل ہے لیکن کچھ احمدیوں نے اس کڑی تنقید پر ان کو مزاحمتی الفاظ کہے اور ایک عورت نے انہیں فون کال بھی کر دی۔ ان انفرادی اقدامات پر محترمہ نے نہایت افسوسناک تجزیہ کرتے ہوئے پوری جماعتِ احمدیہ کو غیر مسلح طالبان قرار دے دیا۔ مزید گمراہ کن تاثر یہ دیا کہ جماعتِ احمدیہ اگر طاقت رکھتی تو وہ بھی مسلح گروہ تیار کر کے لوگوں کی گردنیں اڑانا شروع کر دیتی۔

پہلے تو میں محترمہ کی یہ غلط فہمی دور کر دوں کہ جماعتِ احمدیہ ایک کمزور جماعت ہے۔ جماعتِ احمدیہ کے انگیلا مارکل سمیت یورپ کے بڑے لیڈروں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ دنیا کے تمام پارلیمان تک نمائندگی اور روابط و رسائی حاصل ہے جن کے ذریعے ایسے بہت سے دنیاوی غیر قانونی کام نکلوائے جا سکتے ہیں لیکن جماعت کو نہ ہی ہمدردی رکھنے والے لکھاریوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسے دنیاوی لیڈروں سے کچھ مطلب۔ خیر غرض تحریر یہ کہ طاقت رکھتے ہوئے بھی جماعت صرف خدا پر بھروسہ رکھتی ہے۔

عفاف صاحبہ نے جماعتِ احمدیہ کے خلاف اٹھنے والی حالیہ نفرت انگیز و متشدد لہر کے خلاف لکھا اور پاکستانی احمدیوں کے لیے آواز بلند کی جس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں لیکن محترمہ کے حالیہ بیانات دائیں بازو کے جماعتِ احمدیہ کے لیے مزہبی جذبات سے ملتے جلتے ہیں۔ اور محترمہ اپنے اس موقف پر انہی شدت پسندوں کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح افرادِ جماعت کو ہراساں کرتے، ان پر تشدد کرتے اور ہر طرح کا بد سلوک ان پر روا رکھے ہوئے ہیں۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ یہ زہر محترمہ اپنے قارئین میں کیسے گھول رہی ہیں اس کا اندازہ ان کے مراسلوں پر کئے گئے ان لوگوں کے جماعت کے متعلق متعصبانہ تبصروں سے لگایا جا سکتا ہے جو اپنے آپ کو آزاد خیال لبرل یا بائیں بازو میں شمار کرتے ہیں اور احمدیوں کے لیے عمومی طور پر ہمدردانہ جذبات رکھتے ہیں۔
محترمہ آپ سے عرض ہے کہ آپ کو ہر قسم کی تنقید کرنے کا بھرپور حق حاصل ہے لیکن خدارا آپ پوری جماعت کو “غیر مسلح طالبان” کہہ کر شدت پسندوں کے موقف کو تقویت نہ دیں۔ اور اسی نفرت کی آگ کو مزید ہوا نہ دیں جو مزہبی شدت پسندی کی بنیاد بنتی ہے۔

 

یہ بلاگ مصنف کی ذاتی رائے اور نقطہ فکر پر مبنی ہے۔

Advertisements